ممبئی،2نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں حکومت بنانے کو لے کر جاری رسہ کشی کے درمیان این سی پی چیف شرد پوار نے بڑا بیان دیا ہے۔این سی پی صدر شرد پوار نے کہا کہ عوام نے ان کی پارٹی سے اپوزیشن میں بیٹھنے کے لئے کہا ہے اور پارٹی ایسا ہی کرے گی۔بتا دیں کہ شیوسینا لیڈر سنجے راوت کے شرد پوار سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد مہاراشٹر میں شیوسینا-این سی پی اور کانگریس کی حکومت بننے کے قیاس لگائے جا رہے تھے لیکن پوار نے اپنے بیان میں اس طرح کی حکومت بنانے کے امکان کو ایک طرح سے مسترد کیا ہے۔شرد پوار نے ناسک میں صحافیوں سے بات چیت میں وزیر اعلی کے عہدے کے تقسیم کو لے کر بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹی شیوسینا کے درمیان چل رہے تعطل کو بچکانا بتایا۔این سی پی اور کانگریس کی حمایت سے شیوسینا کی حکومت بننے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر پوار نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی پارٹی میں کوئی بحث نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس واضح اکثریت نہیں ہے،عوام نے ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنے کو کہا ہے،ہم اس مینڈیٹ کو قبول کرتے ہیں اور توجہ رکھیں گے کہ ہم اس کردار کو مؤثر طریقے سے ادا کریں۔
شیوسینا کے 50-50 فارمولے پر زور دینے پر پوار نے کہاکہ لوگوں نے انہیں حکومت بنانے کا موقع دیا ہے،انہیں اس کا استعمال کرنا ہی چاہئے لیکن اب جو چل رہا ہے، وہ میری رائے میں بچکانا ہے۔ دوسری طرف کانگریس میں شیوسینا کو حمایت دینے کو لے کرخیمے بازی نظر آ رہی ہے۔کانگریس کے ایم پی حسین دلوی نے شیوسینا کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی حمایت کی ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط بھی لکھا ہے۔سونیا گاندھی کو لکھے خط میں راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ حسین دلوی نے کہا ہے کہ کانگریس کو حکومت بنانے میں شیوسینا کی حمایت کرنی چاہیے۔دلوی کا کہنا ہے کہ کانگریس کے امیدوار پرتیبھا پاٹل اور پرنب مکھرجی کو صدر بنانے میں شیوسینا نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ایسے میں اب مہاراشٹر میں کانگریس کو بھی شیوسینا کی حمایت کرنی چاہیے۔اس سے پہلے مہاراشٹر کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے دہلی میں سونیا گاندھی سے ملاقات بھی کی تھی۔